شاعری صرف خوبصورت الفاظ کو ترتیب دینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے کچھ بنیادی اصول اور اصطلاحات بھی ہیں۔ اگر کوئی طالب علم شعر، مصرع، قافیہ، ردیف، مطلع، مقطع اور تخلص کو آسانی سے سمجھ لے تو اردو شاعری پڑھنا اور سمجھنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔
اس مضمون Sher o Shayari ki Bunyadi Istilahat میں ہم ان تمام اصطلاحات کو طالب علم کے لیے آسان زبان، مختصر تعریف اور واضح مثالوں کے ساتھ سمجھیں گے۔
![]() |
| Urdu adab ki Duniya Sher o Shayeri |
اس تحریر میں ہم کیا سیکھیں گے؟
- شعر کیا ہے؟
- مصرع کیا ہے؟
- مصرعِ اولیٰ اور مصرعِ ثانی کیا ہیں؟
- قافیہ کیا ہے؟
- ردیف کیا ہے؟
- مطلع کیا ہے؟
- حسنِ مطلع کیا ہے؟
- مقطع کیا ہے؟
- تخلص کیا ہے؟
- ان تمام اصطلاحات کو ایک ہی شعر سے کیسے پہچانیں؟
- امتحان میں مختصر جواب کیسے لکھیں؟
1۔ شعر کیا ہے؟
تعریف:
شاعری میں دو مصرعوں سے مل کر بننے والی مکمل شعری اکائی کو شعر کہتے ہیں۔یعنی:
دو مصرعے = ایک شعر
مثال:
یہ پورا کلام ایک شعر ہے، کیونکہ اس میں دو مصرعے ہیں۔
آسان الفاظ میں:
شعر شاعری کی ایک مکمل اکائی ہے جو عموماً دو مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
2۔ مصرع کیا ہے؟
تعریف:
شعر کی ہر ایک سطر کو مصرع کہتے ہیں۔ شعر کے پہلے مصرعے کو مصرعِ اولیٰ (پہلا مصرع)اور دوسرے مصرعے کو مصرعِ ثانی (دوسرا مصرع)کہا جاتا ہے۔مثال:
پہلی سطر:
خلوص دل سے کرو گے جو نماز کی ادائے گی
یہ مصرعِ اولیٰ ہے۔
دوسری سطر:
عُقبىٰ کی دولت بھی، محبؔ، مل ہی جائے گی
یہ مصرعِ ثانی ہے۔
آسان فارمولا
مصرع + مصرع = شعر
3۔ قافیہ کیا ہے؟
تعریف:
شعر کے آخر میں ردیف سے پہلے آنے والے ایسے الفاظ جو آواز کے اعتبار سے آپس میں ملتے جلتے ہوں، قافیہ کہلاتے ہیں۔مثال:
ماں باپ کی محبت، وہ سایۂ شجر ہےزندگی کی گرمی میں، یہ خنک سفر ہے
اگر اس شعر میں "ہے" ردیف ہو تو:
- شجر = قافیہ
- سفر = قافیہ
- ہے = ردیف
کیونکہ شجر، سفر کی آخری آواز ایک جیسی ہے۔
قافیہ یاد رکھنے کا آسان طریقہ
قافیہ = ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ
مثلاً:
شجر,سفر, نگر, ڈگر
یہ الفاظ آواز کے اعتبار سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اس لیے قافیہ بن سکتے ہیں۔
4۔ ردیف کیا ہے؟
تعریف:
شعر کے آخر میں قافیہ کے بعد بار بار بالکل ایک ہی صورت میں آنے والے لفظ یا الفاظ کو ردیف کہتے ہیں۔مثال:
زندگی بہت مختصر ہے
ہر دن ایک نیا سفر ہے
یہاں "ہے" دونوں مصرعوں کے آخر میں بالکل ایک جیسا آیا ہے۔
لہٰذا:
ردیف = ہے
اور:
قافیہ = مختصر، سفر
ایک اور مثال
ہم کو اللہ کا پیار ملا
دل کو جینے کا قرار ملا
یہاں:
ردیف = ملا
اور:
قافیہ = پیار، قرار
5۔ قافیہ اور ردیف میں فرق
یہ دونوں اصطلاحات اکثر طلبہ کو مشکل لگتی ہیں، لیکن ایک آسان طریقہ یاد رکھیں:
قافیہ بدلتا ہے، ردیف نہیں بدلتی۔
مثلاً:
پیار ملا
قرار ملا
بہار ملا
یہاں:
- پیار → قافیہ
- قرار → قافیہ
- بہار → قافیہ
- ملا → ردیف
یعنی ہر بار "ملا" وہی رہا، اس لیے یہ ردیف ہے، جبکہ اس سے پہلے آنے والے الفاظ بدل رہے ہیں اور ہم آواز ہیں، اس لیے یہ قافیہ ہیں۔
6۔ مطلع کیا ہے؟
تعریف:
غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں۔ مطلع کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف آتے ہیں۔مثال:
زندگی ایک سفر، ایک کہانی ہے
ہر لمحہ ڈھلتی یہ جوانی ہے
یہ اگر غزل کا پہلا شعر ہو تو اسے مطلع کہیں گے۔
یہاں دونوں مصرعوں کے آخر میں قافیہ اور ردیف موجود ہیں۔
آسان طریقہ
غزل کا پہلا شعر = مطلع
7۔ حسنِ مطلع کیا ہے؟
کبھی غزل میں پہلے شعر کے بعد آنے والا شعر بھی مطلع کی طرح ہوتا ہے، یعنی اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف آتے ہیں۔
اسے حسنِ مطلع یا مطلعِ ثانی کہا جاتا ہے۔
آسان الفاظ میں:
مطلع کے بعد ایسا شعر جس کے دونوں مصرعے قافیہ و ردیف کے پابند ہوں = حسنِ مطلع
جیسے:
8۔ مقطع کیا ہے؟
تعریف:
غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں، اور عموماً اس شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔مثال:
یہ روشنی ہے، یہ ضیا ہے، یہ عطائے پروردگار
محبؔ! یہی عبادت تمہیں خدا سے ملائے گی
اگر یہ غزل کا آخری شعر ہو اور شاعر کا تخلص "محب" ہو تو یہ مقطع کہلائے گا۔
یہاں:
محبؔ = شاعر کا تخلص
آسان طریقہ
غزل کا آخری شعر + شاعر کا تخلص = مقطع
9۔ تخلص کیا ہے؟
تعریف:
شاعر کی طرف سے شاعری کے لیے اختیار کیا گیا خاص یا قلمی نام تخلص کہلاتا ہے۔مثلاً:
- مرزا اسد اللہ خان کا تخلص غالبؔ تھا۔
- محمد اقبال کا تخلص اقبالؔ تھا۔
- شاعر اگر اپنا قلمی نام محبؔ رکھے تو "محب" اس کا تخلص ہوگا۔
اکثر شاعر غزل کے آخری شعر یعنی مقطع میں اپنا تخلص استعمال کرتے ہیں۔
آسان الفاظ میں
شاعر کا شاعرانہ نام = تخلص جو غزل یا شاعری کے آخری شعر میں استعمال ہوتا ہے۔
10۔ ایک شعر میں سب چیزیں کیسے پہچانیں؟
اب ایک آسان مثال دیکھیں:
غم کے اندھیروں کو مٹا دے یا ربسوئی میری قسمت جگا دے یا رب
اگر یہ غزل کا پہلا شعر ہو تو:
شعر
دونوں مصرعے مل کر ایک شعر ہیں۔
مصرعِ اولیٰ
غم کے اندھیروں کو مٹا دے یا رب
مصرعِ ثانی
سوئی میری قسمت جگا دے یا رب
قافیہ
مٹا دے، جگا دے
ردیف
یا ربّ
اگر یہ غزل کا پہلا شعر ہے تو:
مطلع
یہ پورا شعر مطلع ہوگا۔
11۔ ایک مکمل غزل کے ڈھانچے کو سمجھیں
غزل کو آسانی سے اس طرح سمجھ سکتے ہیں:
پہلا شعر → مطلع
↓
درمیان کے اشعار → عام اشعار
↓
آخری شعر → مقطع
اور اگر شاعر نے آخری شعر میں اپنا شاعرانہ نام استعمال کیا ہو تو وہ تخلص ہوگا۔
مثلاً فرض کریں شاعر کا تخلص محبؔ ہے:
جیسے غزل کے شروعات میں یہ مطلع ہے
دل میں خدا کا خوف ہو، لب پر دعا رہے
ہر وقت دل میں عشقِ رسولِ خدا رہے
اور غزل کے آخر جس میں شاعر کا نام ہوئی مقطع ہے
نیکی کی راہ چھوڑ نہ دینا کبھی محبؔ
جب تک بدن میں جان ہے، رب سے وفا رہے
اگر یہ آخری شعر ہے تو یہ مقطع ہے اور محبؔ تخلص ہے۔
12۔ کیا ہر شعر میں ردیف ہوتی ہے؟
نہیں۔
غزل میں ردیف کا ہونا ضروری نہیں، لیکن قافیہ غزل کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے۔ بعض غزلیں ردیف کے ساتھ ہوتی ہیں اور بعض میں ردیف نہیں ہوتی۔
مثلاً:
ردیف کے ساتھ:
قرار ہے
بہار ہے
دیار ہے
یہاں "ہے" ردیف ہے۔
جبکہ اگر ہر شعر کے آخر میں مختلف لفظ آئے لیکن قافیہ کی پابندی برقرار رہے تو وہ غیر مردف غزل ہو سکتی ہے۔
13۔ بحر اور وزن کیا ہیں؟
شاعری سمجھنے کے لیے ایک اور اہم اصطلاح بحر اور وزن ہے۔
شعر کے الفاظ کو ایک مخصوص صوتی ترتیب اور آہنگ کے مطابق رکھنے کو شاعری کے وزن سے متعلق سمجھا جاتا ہے، جبکہ عروض میں مختلف بحور مقرر ہیں۔
آسان الفاظ میں:
شعر کے پڑھنے میں ایک مخصوص لے اور آہنگ کا برقرار رہنا = وزن کی بنیادی سمجھ
مثلاً کوئی شعر پڑھتے وقت اگر اس کے الفاظ بے ترتیب محسوس ہوں تو ممکن ہے کہ شعر وزن کے اعتبار سے درست نہ ہو۔
البتہ قافیہ اور ردیف درست ہونا اور شعر کا وزن میں ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
14۔ شعر، مصرع، قافیہ، ردیف، مطلع، مقطع اور تخلص — ایک نظر میں
| اصطلاح | آسان تعریف |
|---|---|
| شعر | دو مصرعوں سے مل کر بننے والی مکمل شعری اکائی |
| مصرع | شعر کی ایک سطر |
| مصرعِ اولیٰ | شعر کی پہلی سطر |
| مصرعِ ثانی | شعر کی دوسری سطر |
| قافیہ | ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ |
| ردیف | قافیہ کے بعد بار بار بالکل ایک جیسا آنے والا لفظ یا فقرہ |
| مطلع | غزل کا پہلا شعر، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف آتے ہیں |
| حسنِ مطلع | مطلع کے بعد ایسا شعر جس کے دونوں مصرعے مطلع کی طرح ہوں |
| مقطع | غزل کا آخری شعر، جس میں عموماً تخلص آتا ہے |
| تخلص | شاعر کا اختیار کیا ہوا شاعرانہ یا قلمی نام |
15۔ایک جملے میں پوری بات:
دو مصرعے مل کر شعر بنتے ہیں، شعر کے آخر میں ہم آواز الفاظ قافیہ کہلاتے ہیں، قافیہ کے بعد بار بار آنے والے الفاظ ردیف کہلاتے ہیں، غزل کا پہلا شعر مطلع، آخری شعر مقطع اور شاعر کا قلمی نام تخلص کہلاتا ہے۔
📚 چاروں تعریفیں ایک ساتھ
- قافیہ: ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ کو قافیہ کہتے ہیں۔
- ردیف: شعر کے آخر میں بار بار ایک ہی صورت میں آنے والے لفظ یا الفاظ کو ردیف کہتے ہیں۔
- مطلع: غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف آتے ہیں۔
- مقطع: غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں، جس میں عموماً شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔
خلاصہ
اردو شاعری کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے مصرع اور شعر کو سمجھیں۔ اس کے بعد قافیہ اور ردیف کا فرق یاد کریں۔ پھر غزل کے پہلے شعر کو مطلع، آخری شعر کو مقطع اور شاعر کے شاعرانہ نام کو تخلص کہتے ہیں۔
یہ بنیادی اصطلاحات سمجھ لینے کے بعد کسی بھی غزل کو پڑھتے ہوئے طالب علم آسانی سے پہچان سکتا ہے کہ شعر کہاں ہے، مصرع کون سا ہے، قافیہ اور ردیف کون سی ہے، مطلع کون سا ہے اور مقطع میں شاعر کا تخلص کہاں استعمال ہوا ہے۔
👉: Islam ki Nazar me Sher o Shayeri ki Kya Ahmiyat hai zarur padhen ise
FAQs — Sher o Shayari ki Bunyadi Istilahat
1. Sher kise kehte hain?
Shayari mein do misron se mil kar banne wali mukammal shairana ikai ko Sher kehte hain. Yani do misre milkar ek Sher bante hain.
2. Misra kise kehte hain?
Sher ki har ek satr ko Misra kehte hain. Pehli satr Misra-e-Ula aur doosri satr Misra-e-Sani kehlati hai.
3. Qaafiya kya hota hai?
Radeef se pehle aane wale aise hum-aawaz alfaaz jo aapas mein aawaz ki mushabahat rakhte hain, Qaafiya kehlate hain.
Misal:
Qaraar, Bahaar, Diyaar — ye hum-aawaz alfaaz hain.
4. Radeef kya hoti hai?
Sher ke aakhir mein Qaafiya ke baad baar-baar bilkul ek hi surat mein aane wale lafz ya alfaaz ko Radeef kehte hain.
Misal:
Qaraar mila
Pyaar mila
Bahaar mila
Yahan "mila" Radeef hai.
5. Qaafiya aur Radeef mein kya farq hai?
Qaafiya Radeef se pehle aane wala hum-aawaz lafz hota hai, jabki Radeef har baar bilkul ek jaisi surat mein dohrayi jaati hai.
Misal:
Qaraar mila
Pyaar mila
- Qaraar, Pyaar = Qaafiya
- Mila = Radeef
6. Matla kise kehte hain?
Ghazal ke pehle Sher ko Matla kehte hain. Matla ke dono misron mein Qaafiya aur Radeef aate hain.
7. Maqta kise kehte hain?
Ghazal ke aakhri Sher ko Maqta kehte hain. Aam taur par ismein shayar apna Takhallus istemal karta hai.
8. Takhallus kya hota hai?
Shayar ke us khaas shairana ya adabi naam ko Takhallus kehte hain jise woh apni shayari mein istemal karta hai.
Misal:
Agar shayar ka Takhallus "Mohib" ho to woh apne Maqta mein is tarah likh sakta hai:
Mohibؔ! ye ibadat tumhein Khuda se milayegi
9. Misra-e-Ula aur Misra-e-Sani kya hain?
Sher ki pehli satr Misra-e-Ula aur doosri satr Misra-e-Sani kehlati hai.
10. Kya har ghazal mein Radeef zaroori hoti hai?
Nahi, har ghazal mein Radeef ka hona zaroori nahi. Lekin Qaafiya aur ghazal ke doosre usooli pehlu apni jagah aham hote hain.
11. Husn-e-Matla kya hota hai?
Agar Matla ke baad koi aisa Sher aaye jiske dono misron mein Qaafiya aur Radeef ho, to use Husn-e-Matla ya Matla-e-Sani kaha ja sakta hai.
12. Sher aur Misra mein kya farq hai?
Misra Sher ki ek satr hota hai, jabki do Misre milkar ek Sher banate hain.
Yaad rakhne ka aasan formula:
Misra + Misra = Sher
Hum-aawaz alfaaz = Qaafiya
Ek jaisa dohraya gaya lafz = Radeef
Ghazal ka pehla Sher = Matla
Ghazal ka aakhri Sher = Maqta
Shayar ka shairana naam = Takhallus

