محرم الحرام، وہ مہینہ ہے جس میں تاریخِ اسلام کا سب سے دل دہلا دینے والا واقعہ—کربلا—پیش آیا۔لیکن آج Maah e Muharram Gham e Hussain Ya Jashn e khurafaat ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔ مہینہ ہمیں حسینؑ ابن علیؓ کی قربانی، صبر، توحید پر ڈٹ جانے اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنے کا پیغام دیتا ہے۔محرم، صرف غم کا مہینہ نہیں بلکہ شعور، صبر اور قربانی کا پیغام ہے۔ امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں جو عظیم قربانی دی، وہ محض آلِ نبیؐ کی محبت نہیں، بلکہ توحید، سنت، اور دینِ حق کی حفاظت کے لیے تھی۔
مگر افسوس! آج محرم کے نام پر دینِ اسلام کے خلاف وہ سب کچھ کیا جا رہا ہے جو نہ قرآن میں ہے نہ سنت میں۔ آج کے دور میں محرم کے نام پر خرافات، بدعات، غیر اسلامی رسومات، ڈھول تاشے، تعزیے، نوحے، سینہ کوبی اور غیر شرعی افعال عام ہو چکے ہیں۔ جن کا نہ قرآن میں وجود ہے، نہ حدیث میں۔
یہ نظم "Maah e Muharram Gham e Hussain Ya Jashn e khurafaat " شاعر کے دل کی وہ صدا ہے جو امت کو بیدار کرنے، بدعت سے نکال کر سنت کی طرف پلٹنے، اور امام حسینؑ کے اصل مشن سے جوڑنے کی دعوت دیتی ہے۔یہ نظم ایک درد مند مسلمان دل کی پکار ہے جو حق اور باطل کے فرق کو واضح کرتی ہے، اور امت کو بیدار کرنے کی سعی کرتی ہے۔شاعر نے ان اشعار کے ذریعے نہ صرف ان خرافات پر تنقید کی ہے، بلکہ حسینؑ کے اصل پیغام کو اپنانے کی دعوت بھی دی ہے—یعنی توحید، سنت، اور بدعت و شرک سے کنارہ کشی۔
*•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
محرّم: غمِ حسینؑ یا جشنِ خرافات؟ (ایک حق پر مبنی آواز، خرافات کے خلاف)
محرم میں ڈھول اور تاشے بجانے والوں!
دین کی آڑ میں بدعت بڑھانے والوں!
آلِ نبیؐ سے جُھوٹی محبّت جتانے والوں!
میلے لگا کے عزاداری دکھانے والوں!
"🌙 چاند جب محرّم کا نظر آتا ہےکیا تیری رَگوں میں شیطان اُتر آتا ہے؟"
فقط دعویٰ ہے یہ ، اظہارِ محبت نہیں
فرمانِ نبیؐ کی بھی کوئی اہمیت نہیں
ڈھول بجاتے ہو یہ کوئی شریعت نہیں
کہہ دو اعمال تمہارے یہ بدعت نہیں
گر شریعت کا کرتے ہو تھوڑا بهی خیالچھوڑ دو اپنی یہ شرکیہ و بدعتی اعمال
قولِ نبیؐ سن لے , ہر بدعت گمراہی ہے
پھر کیوں ڈھونڈھتا اس میں اچھائی ہے
غیر کے رسموں کو جو تم نے اپنائی ہے
کیسا یہ غمِ حسینؑ تم نے منائی ہے ؟
بدعت کو یہ کہتے , بدعت حسنہ ہےجہنم لیکرجائے گی یہ، نبیؐ کا کہنا ہے
قبر حسینؑ کی تم تصویر بناتے ہو
اور تعزیہ کو سجده گاہ بناتے ہو
فرمانِ الٰہی کو جو تم ٹھکراتے ہو
تراشے ہوئے کو حاجت روا بناتے ہو
سمجھتے ہو تعزیہ کو تم حاجت روائیاللہ کے سوا نہیں کوئی مُشکِل کُشائی
تم نے بھی کیا خوب اپنا نام کیا
نوحہ اور ماتم کو جو سرِ عام کیا
شرک و بدعت کو تم نے عام کیا
دین کے نام پر یہ کیسا کام کیا
دیکھو شيطان نے بھی کیا کام کیابُت پرستی کو تمہارے لئے عام کیا
شہید مر کر بھی زندہ رہتا ہے
یہ میں نہیں کہتا, قرآن کہتا ہے
یا حُسین کی نعرہ تو لگاتا ہے
مرے ہوئے پر ڈھول بھی بجاتا ہے
ہے اگر حسینؑ سے جو سچی محبّتچھوڑ دو محرّم کی یہ شرک و بدعت
حسینؑ کے نام پر یہ کیسی خرافات
کرتے ہو محرّم میں شرک و بدعات
غیروں کے رسموں کا کیا ایجادات
پڑھتے ہو مرثیہ اور شرکیہ کلمات
حق ہے اگر عشقِ حسینؑ کا دعویٰتو پھر کرتے ہو کیوں اتنا دکھاوا
ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں
ان کو اپنے دین سے جو محبت ہی نہیں
تعزیہ اٹھاتے ہو پر یہ شریعت ہی نہیں
تمہاری نظروں میں یہ بدعت ہی نہیں
کیسی رسم جو دینِ نبیؐ سے جدا ہےکیا تمہارا بھی کوئی ایک الگ خدا ہے
دیکھنا محب وہ بھی وقت کبھی آئیگا
ان کا ہر ملا اپنے اسٹیج سے چِلّا ئے گا
جب خرافات یہ حد سے بڑھ جائیگا
پھر کوئی بھی انکو نہ روک پائے گا
روکنے والا ہے ان کی نظر میں وہابییہی تو ہے انکے مُلّوں میں بڑی خرابی📝 از: محب طاہری
*•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*🔚 اختتامیہ:
محرم، اہلِ اسلام کے لیے غم، صبر، حق گوئی، اور ایمان پر قربانی کی عظیم یادگار ہے۔ لیکن آج اس مقدس مہینے میں ایسے اعمال عام ہو چکے ہیں جو نہ صرف دین کے خلاف ہیں، بلکہ حسینؑ کے مشن "توحید و عدل" سے بھی غداری کے مترادف ہیں۔
اگر ہم واقعی امام حسینؑ سے محبت رکھتے ہیں، تو ہمیں اُن کے مشن کو اپنانا ہوگا: شرک کا انکار، بدعت سے انکار، اور سنت کا اقرار۔
Read This Also: Zindagi ki haqeeqat
محرم الحرام، وہ مہینہ ہے جس میں تاریخِ اسلام کا سب سے دل دہلا دینے والا واقعہ—کربلا—پیش آیا۔لیکن آج Maah e Muharram Gham e Hussain Ya Jashn e khurafaat ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔ مہینہ ہمیں حسینؑ ابن علیؓ کی قربانی، صبر، توحید پر ڈٹ جانے اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنے کا پیغام دیتا ہے۔محرم، صرف غم کا مہینہ نہیں بلکہ شعور، صبر اور قربانی کا پیغام ہے۔ امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں جو عظیم قربانی دی، وہ محض آلِ نبیؐ کی محبت نہیں، بلکہ توحید، سنت، اور دینِ حق کی حفاظت کے لیے تھی۔
مگر افسوس! آج محرم کے نام پر دینِ اسلام کے خلاف وہ سب کچھ کیا جا رہا ہے جو نہ قرآن میں ہے نہ سنت میں۔ آج کے دور میں محرم کے نام پر خرافات، بدعات، غیر اسلامی رسومات، ڈھول تاشے، تعزیے، نوحے، سینہ کوبی اور غیر شرعی افعال عام ہو چکے ہیں۔ جن کا نہ قرآن میں وجود ہے، نہ حدیث میں۔
یہ نظم "Maah e Muharram Gham e Hussain Ya Jashn e khurafaat " شاعر کے دل کی وہ صدا ہے جو امت کو بیدار کرنے، بدعت سے نکال کر سنت کی طرف پلٹنے، اور امام حسینؑ کے اصل مشن سے جوڑنے کی دعوت دیتی ہے۔یہ نظم ایک درد مند مسلمان دل کی پکار ہے جو حق اور باطل کے فرق کو واضح کرتی ہے، اور امت کو بیدار کرنے کی سعی کرتی ہے۔
یہ نظم "Maah e Muharram Gham e Hussain Ya Jashn e khurafaat " شاعر کے دل کی وہ صدا ہے جو امت کو بیدار کرنے، بدعت سے نکال کر سنت کی طرف پلٹنے، اور امام حسینؑ کے اصل مشن سے جوڑنے کی دعوت دیتی ہے۔یہ نظم ایک درد مند مسلمان دل کی پکار ہے جو حق اور باطل کے فرق کو واضح کرتی ہے، اور امت کو بیدار کرنے کی سعی کرتی ہے۔
شاعر نے ان اشعار کے ذریعے نہ صرف ان خرافات پر تنقید کی ہے، بلکہ حسینؑ کے اصل پیغام کو اپنانے کی دعوت بھی دی ہے—یعنی توحید، سنت، اور بدعت و شرک سے کنارہ کشی۔
دین کی آڑ میں بدعت بڑھانے والوں!
آلِ نبیؐ سے جُھوٹی محبّت جتانے والوں!
میلے لگا کے عزاداری دکھانے والوں!
*•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
محرّم: غمِ حسینؑ یا جشنِ خرافات؟ (ایک حق پر مبنی آواز، خرافات کے خلاف)
محرم میں ڈھول اور تاشے بجانے والوں!دین کی آڑ میں بدعت بڑھانے والوں!
آلِ نبیؐ سے جُھوٹی محبّت جتانے والوں!
میلے لگا کے عزاداری دکھانے والوں!
"🌙 چاند جب محرّم کا نظر آتا ہے
کیا تیری رَگوں میں شیطان اُتر آتا ہے؟"
فقط دعویٰ ہے یہ ، اظہارِ محبت نہیں
فرمانِ نبیؐ کی بھی کوئی اہمیت نہیں
ڈھول بجاتے ہو یہ کوئی شریعت نہیں
کہہ دو اعمال تمہارے یہ بدعت نہیں
گر شریعت کا کرتے ہو تھوڑا بهی خیال
چھوڑ دو اپنی یہ شرکیہ و بدعتی اعمال
قولِ نبیؐ سن لے , ہر بدعت گمراہی ہے
پھر کیوں ڈھونڈھتا اس میں اچھائی ہے
غیر کے رسموں کو جو تم نے اپنائی ہے
کیسا یہ غمِ حسینؑ تم نے منائی ہے ؟
بدعت کو یہ کہتے , بدعت حسنہ ہے
جہنم لیکرجائے گی یہ، نبیؐ کا کہنا ہے
قبر حسینؑ کی تم تصویر بناتے ہو
اور تعزیہ کو سجده گاہ بناتے ہو
فرمانِ الٰہی کو جو تم ٹھکراتے ہو
تراشے ہوئے کو حاجت روا بناتے ہو
سمجھتے ہو تعزیہ کو تم حاجت روائی
اللہ کے سوا نہیں کوئی مُشکِل کُشائی
تم نے بھی کیا خوب اپنا نام کیا
نوحہ اور ماتم کو جو سرِ عام کیا
شرک و بدعت کو تم نے عام کیا
دین کے نام پر یہ کیسا کام کیا
دیکھو شيطان نے بھی کیا کام کیا
بُت پرستی کو تمہارے لئے عام کیا
شہید مر کر بھی زندہ رہتا ہے
یہ میں نہیں کہتا, قرآن کہتا ہے
یا حُسین کی نعرہ تو لگاتا ہے
مرے ہوئے پر ڈھول بھی بجاتا ہے
ہے اگر حسینؑ سے جو سچی محبّت
چھوڑ دو محرّم کی یہ شرک و بدعت
کرتے ہو محرّم میں شرک و بدعات
غیروں کے رسموں کا کیا ایجادات
پڑھتے ہو مرثیہ اور شرکیہ کلمات
حق ہے اگر عشقِ حسینؑ کا دعویٰ
تو پھر کرتے ہو کیوں اتنا دکھاوا
ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں
ان کو اپنے دین سے جو محبت ہی نہیں
تعزیہ اٹھاتے ہو پر یہ شریعت ہی نہیں
تمہاری نظروں میں یہ بدعت ہی نہیں
کیسی رسم جو دینِ نبیؐ سے جدا ہے
کیا تمہارا بھی کوئی ایک الگ خدا ہے
دیکھنا محب وہ بھی وقت کبھی آئیگا
ان کا ہر ملا اپنے اسٹیج سے چِلّا ئے گا
جب خرافات یہ حد سے بڑھ جائیگا
پھر کوئی بھی انکو نہ روک پائے گا
روکنے والا ہے ان کی نظر میں وہابی
یہی تو ہے انکے مُلّوں میں بڑی خرابی
📝 از: محب طاہری
*•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
🔚 اختتامیہ:
محرم، اہلِ اسلام کے لیے غم، صبر، حق گوئی، اور ایمان پر قربانی کی عظیم یادگار ہے۔ لیکن آج اس مقدس مہینے میں ایسے اعمال عام ہو چکے ہیں جو نہ صرف دین کے خلاف ہیں، بلکہ حسینؑ کے مشن "توحید و عدل" سے بھی غداری کے مترادف ہیں۔اگر ہم واقعی امام حسینؑ سے محبت رکھتے ہیں، تو ہمیں اُن کے مشن کو اپنانا ہوگا: شرک کا انکار، بدعت سے انکار، اور سنت کا اقرار۔
*•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
महर्रम: ग़म-ए-हुसैन या ख़ुराफ़ात का जश्न?
महर्रम उल हराम — इस्लामी तारीख़ का वो महीना जिसमें कर्बला का वो दिल दहला देने वाला वाक़िया पेश आया। यह महीना हमें इमाम हुसैन (अलैहि सलाम) की कुर्बानी, सब्र, तौहीद पर अडिग रहने और ज़ुल्म के ख़िलाफ़ आवाज़ उठाने का पैग़ाम देता है।
महर्रम सिर्फ़ ग़म का महीना नहीं है बल्कि होश, सब्र और कुर्बानी का महीना है। कर्बला में इमाम हुसैन (अलैहि सलाम) की दी गई महान कुर्बानी सिर्फ़ अहले बैत की मोहब्बत के लिए नहीं थी, बल्कि तौहीद, सुन्नत और दीन-ए-हक़ की हिफ़ाज़त के लिए थी।
मगर अफ़सोस! आज महर्रम के नाम पर दीन-ए-इस्लाम के खिलाफ़ वो सब कुछ किया जा रहा है जो न कुरआन में है, न सुन्नत में। आज के दौर में महर्रम के नाम पर ख़ुराफ़ात, बिदअत, ग़ैर-इस्लामी रस्में, ढोल-ताशे, ताज़िये, नौहे, सीना-कोबी और बहुत से ग़ैर-शरई काम आम हो चुके हैं, जिनका न कुरआन में कोई ज़िक्र है न हदीस में।
यह नज़्म Muharram:Gham e Hussain Ya Jashn e khurafaat ? मोहिब ताहिरी के दिल की वो पुकार है, जो उम्मत को जगाने, बिदअत से निकाल कर सुन्नत की तरफ़ वापस लाने और इमाम हुसैन (अलैहि ससलाम) के असल मिशन से जोड़ने की दावत देती है।
यह दर्दमंद दिल की आवाज़ हक़ और बातिल के फर्क़ को साफ़ करती है और उम्मत को जागरूक करने की कोशिश है।
शायर ने अपने अशआर में सिर्फ़ इन ख़ुराफ़ात की आलोचना ही नहीं की, बल्कि हुसैन (अलैहि सलाम) के असल पैग़ाम को अपनाने की दावत भी दी है — यानी तौहीद, सुन्नत और बिदअत व शिर्क से किनारा करना।
महर्रम: ग़म-ए-हुसैन या ख़ुराफ़ात का जश्न? (हक़ की आवाज़, ख़ुराफ़ात के खिलाफ़)
महर्रम में ढोल और ताशे बजाने वालों!
दीन की आड़ में बिदअत बढ़ाने वालों!
आल-ए-नबी से झूठी मोहब्बत जताने वालों!
मेले लगाकर अज़ादारी दिखाने वालों!
🌙 “चाँद जब महर्रम का नज़र आता है,
क्या तेरी रगों में शैतान उतर आता है?”
सिर्फ़ दावे हैं ये, इज़हार-ए-मोहब्बत नहीं,
फ़रमान ए नबी (ﷺ) भी कोई अहमियत नहीं।
ढोल बजाते हो, ये कोई शरियत नहीं,
कह दो अमाल तुम्हारे यह बिदअत नहीं?
गर शरियत का करते हो ज़रा सा भी ख़्याल,
छोड़ दो अपनी ये शिर्कीया और बिदअती अमाल।
कौल ए नबी (ﷺ) सुन “हर बिदअत गुमराही है,”
फिर क्यूँ ढूंढता इसमें अच्छाई है ?
ग़ैरों की रस्में जो तुमने अपनाई है
कैसा ये ग़म-ए-हुसैन तुमने मनाई है?
बिदअत को ये कहते “बिदअत-ए-हसना” है
जहन्नम में ले जाएगी, ये नबी (ﷺ) का कहना है।
क़ब्र-ए-हुसैन की तुम तस्वीर बनाते हो,
ताज़िये को सजदा गाह बनाते हो,
अल्लाह के हुक्म को जो ठुकराते हो,
तराशे हुए को हाजत-रवा बनाते हो,
समझते हो ताज़िए को तुम हाजत रवाई
अल्लाह के सिवा नहीं कोई मुश्किल कुशाई
तुमने भी क्या खूब अपना नाम किया,
नौहा और मातम को सर ए आम किया,
शिर्क और बिदअत को तुम आ़म किया
दीन के नाम पर ये कैसा काम किया?
देखो, शैतान ने भी क्या काम किया,
बुत-परस्ती को तुम्हारे लिए आ़म किया।
शहीद मर कर भी ज़िंदा रहता है,
ये मैं नहीं कहता, कुरआन कहता है।
या हुसैन का नारा तू लगता है,
मरे हुए पर ढोल भी बजाता है।
है अगर हुसैन (अलैहि सलाम) से सच्ची मोहब्बत
छोड़ दो मुहर्रम की ये शिर्क ओ बिदअत
हुसैन के नाम पर कैसी ये ख़ुराफ़ात?
करते हो महर्रम में शिर्क और बिदआत
ग़ैरों की रस्मों का तुमने किया इजादात
पढ़ते हो मरसिया और शिर्किया कालिमात
अगर हक़ है इश्क-ए-हुसैन का दावा,
तो फिर करते हो क्यों इतना दिखावा?
हमें कुछ कहने की अब ज़रूरत ही नहीं,
इनको अपने दीन से जो मोहब्बत ही नहीं।
ताजिया उठाते हो पर ये शरीयत ही नहीं
तुम्हारी नज़रों में ये बिदअत ही नहीं
कैसी रस्म जो दीन-ए-नबी (ﷺ) से जुदा है,
क्या तुम्हारा भी कोई एक अलग ख़ुदा है?
क्या तुम्हारा भी कोई एक अलग ख़ुदा है?
!
देखना मोहिब वो दिन भी कभी आएगा,
जब उनका हर मौलवी स्टेज से चिल्लाएगा,
जब यह ख़ुराफ़ात हद से बढ़ जाएगा,
फिर तो कोई भी न इनको रोक पाएगा।
रोकने वाला है उनकी नज़रों में “वहाबी,”
यही तो है इन मौलवियों की बड़ी ख़राबी
✍️By: Mohib Tahiri
🔚 निष्कर्ष:
महर्रम, मुसलमानों के लिए ग़म, सब्र, हक़ की गवाही और ईमान पर कुर्बानी की याद दिलाता है। मगर अफ़सोस! आज इस पाक महीने में ऐसे काम किए जाते हैं जो न सिर्फ़ दीन के ख़िलाफ़ हैं, बल्कि इमाम हुसैन (अलैहि सलाम) के मिशन — “तौहीद व अद्ल” से भी गद्दारी के बराबर हैं।
अगर हम सच में इमाम हुसैन (अलैहि सलाम) से मोहब्बत रखते हैं,तो हमें उनके मिशन को अपनाना होगा:
शिर्क का इन्कार, बिदअत का इन्कार, और सुन्नत का इकरार।
Read this also: Baap ki mehnat
👍🏽 ✍🏻 📩 📤 🔔
Like | Comment | Save | Share | Subscribe
Like | Comment | Save | Share | Subscribe

